فهرس الكتاب

الصفحة 5991 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: ناطہ جوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف بدلہ ادا کر دے

5991 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَالحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: - قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ يَرْفَعْهُ الأَعْمَشُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَهُ حَسَنٌ وَفِطْرٌ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا»

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش اور حسن بن عمرو اور فطربن خلیفہ نے ، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے سفیان سے ، کہا کہ اعمش نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں بیان کی لیکن حسن اور فطر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعًا بیان کیا فرمایا کہ کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جارہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے ۔

کمال اس کا نام جو حدیث میں مذکور ہوا۔ رشتہ دار اگر نہ ملے تو تم اس سے ملنے میں سبقت کرو بعد میں وہ تمہارا ولی حمیم گاڑھا دوست بن جائے گا جیسے کہ تجربہ شاہد ہے۔ حضرت اعمش بن سلیمان سنہ60 ھ میں سر زمین رے میں پیدا ہوئے پھر کوفے میں لائے گئے علم حدیث میں بہت مشہور ہیں۔ اکثر کوفیوں کی روایت کامدار ان ہی پر ہے ۔ سنہ128ھ میں فوت ہوئے رحمہ اللہ تعالیٰ آمین۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت