فهرس الكتاب

الصفحة 1296 من 7563

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

1296 وَقَالَ الحَكَمُ بْنُ مُوسَى: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ: أَنَّ [ص:82] القَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَدِيدًا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ»

او رحکم بن موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے یحیٰی بن حمزہ نے بیان کیا' ان سے عبدالرحمن بن جابر نے کہ قاسم بن مخیمرہ نے ان سے بیان کیا' انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوبردہ ابوموسیٰ نے بیان کیاکہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے' ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا ( وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی ) ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی غم کے وقت ) چلاکر رونے والی' سرمنڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا۔

معلوم ہوا کہ غمی میں سرمنڈوانا' گریبان چاک کرنا اور چلاکر نوحہ کرنا یہ جملہ حرکات حرام ہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت