فهرس الكتاب

الصفحة 4349 من 7563

کتاب: غزوات کے بیان میں

باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید ؓ کو یمن بھیجنا

4349 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ فَقَالَ مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ قَالَ فَغَنِمْتُ أَوَاقٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ

مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا ، کہاہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے ابو اسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولید کے ساتھ یمن بھیجا ، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ حضرت علی کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے ۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے ۔

اسماعیل کی روایت میں ہے کہ جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پھر یمن کو لوٹ گئے تو کافروں کی ایک قوم ہمدان سے مقابلہ ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آنحضرت ا کاخط سنایا ۔ وہ سب مسلمان ہوگئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا ۔ آپ نے سجدئہ شکر ادا کیا اور فرمایا ہمدان سلامت رہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت