فهرس الكتاب

الصفحة 6064 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت

6064 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الحَدِيثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»

ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام بن منبہ نے خبر دی اور انہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بد گمانی سے بچتے رہو کیونکہ بد گمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں ، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو ، آپس میں حسد نہ کرو ، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو ، بغض نہ رکھو ، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو ۔

اللہ پاک ہر مسلمان کو اس ارشاد نبوی پر عمل کی توفیق بخشے آمین ۔ تحسسوا اور تجسسوہر دو میں ایک تا حذف ہو گئی ہے، خطابی نے اس کا مطلب بتایا کہ لوگوں کے عیوب کی تلاش نہ کرو، تحسسو کا مادہ حاسہ ہے مطلق تلاش کے لئے بھی یہ مستعمل ہے جیسے آیت سورۃ یوسف میں حضرت یعقوب کا قول نقل ہوا ہے، اذھبوا فتحسسو من یوسف واخیہ ( یوسف: 87 )

جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ ظن سے بدگمانی مراد ہے یعنی بغیرتحقیق کئے دل میں بد گمانی بٹھا لینا یہ سچے مسلمان کا شیوہ نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت