فهرس الكتاب

الصفحة 6224 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: چھینکنے والے کا کس طرح جواب دیا جائے؟

6224 حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ [ص:50] أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الحَمْدُ لِلَّهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبردی ، وہ ابو صالح سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الحمدللہ کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی ( راوی کو شبہ تھا ) " یرحمک اللہ " کہے ۔ جب ساتھی یرحمک اللہ کہے تو اس کے جواب میں چھینکنے والا " یھدیکم اللہ ویصلح بالکم "

اللہ تمہیں سیدھے راستہ پر رکھے اور تمہارے حالات درست کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت