5148 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر ( سونے کے مہر پر ) نکاح کیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا ۔ انہوں نے عرض کیاکہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر نکاح کیا ہے اور قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے ۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا ۔
اس میں سونے کی تصریح مذکور ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر کی کمی بیشی کی کوئی حد نہیں ہے مگر بہتر یہ ہے کہ طاقت ہونے پر مہر دس درہم سے کم اور پانچ سو در ہم سے زیادہ نہ ہو کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور صاحبزادیوں کا یہی مہر تھا۔ ( وحیدی ) آج کل لوگ نام و نمود کے لئے ہزاروں کا مہر باندھ دیتے ہیں بعد میں ادائیگی کا نام نہیں لیتے الا ماشاءاللہ۔ ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اتنا ہی مہر بندھوائیں جسے بخوشی ادا کر سکیں۔