فهرس الكتاب

الصفحة 2346 من 7563

کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان

باب : نقدی لگان پر سونا چاندی کے بدل زمین دینا

2346 حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا الليث، عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، عن حنظلة بن قيس، عن رافع بن خديج، قال حدثني عماى، أنهم كانوا يكرون الأرض على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بما ينبت على الأربعاء أو شىء يستثنيه صاحب الأرض فنهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقلت لرافع فكيف هي بالدينار والدرهم فقال رافع ليس بها بأس بالدينار والدرهم‏.‏ وقال الليث وكان الذي نهي عن ذلك ما لو نظر فيه ذوو الفهم بالحلال والحرام لم يجيزوه، لما فيه من المخاطرة‏.

ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے بیان کیا، ان سے حنظلہ بن قیس نے بیان کیا، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے چچا ( ظہیر اور مہیر رضی اللہ عنہما ) نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر نہر ( کے قریب کی پیداوار ) کی شرط پر دیا کرتے۔ یا کوئی بھی ایسا خطہ ہوتا جسے مالک زمین ( اپنے لیے ) چھانٹ لیتا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ حنظلہ نے کہا کہ اس پر میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اگر درہم و دینار کے بدلے یہ معاملہ کیا جائے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دینار و درہم کے بدلے میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور لیث نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کی بٹائی سے منع فرمایا تھا، وہ ایسی صورت ہے کہ حلال و حرام کی تمیز رکھنے والا کوئی بھی شخص اسے جائز نہیں قرار ددے سکتا۔ کیوں کہ اس میں کھلا دھوکہ ہے۔

اس سے جمہور کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ جس مزارعت میں دھوکہ نہ ہو مثلًا روپیہ وغیرہ کے بدل ہو یا پیداوار کے نصف یا ربع پر ہو تو وہ جائز ہے۔ منع وہی مزارعت ہے جس میں دھوکہ ہو مثلًا کسی خاص مقام کی پیداوار پر۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت