فهرس الكتاب

الصفحة 5542 من 7563

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

باب: جانوروں کے چہروں پر داغ دینا یا نشان کرنا کیسا ہے

5542 حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي يُحَنِّكُهُ، وَهُوَ فِي مِرْبَدٍ لَهُ، «فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاةً - حَسِبْتُهُ قَالَ - فِي آذَانِهَا»

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن زید نے ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی ( عبد اللہ بن ابی طلحہ نومولود ) کو لایا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرمادیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹوں کے باڑے میں تشریف رکھتے تھے ۔ میں نے دیکھا کہ آپ ایک بکری کو داغ رہے تھے ( شعبہ نے کہا کہ ) میں سمجھتا ہوں کہ ( ہشام نے ) کہا کہ ا س کے کانوں کو داغ رہے تھے ۔

معلوم ہوا کہ بکری کے کانوں کو داغنا جائز ہے۔ کسی بزرگ کا منہ میں کھجور نرم کرکے بچہ کے حلق میں ڈال دینے کو تحنیک کہا جاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت