فهرس الكتاب

الصفحة 2255 من 7563

کتاب: بیع سلم کے بیان میں

باب : سلم میں میعاد معین ہونی چاہئے

2255 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُمَا عَنْ السَّلَفِ فَقَالَا كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى قَالَ قُلْتُ أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ قَالَا مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں سلیمان شیبانی نے، انہیں محمد بن ابی مجالد نے، کہا کہ مجھے ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے عبدالرحمن بن ابزیٰ اور عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا۔ میں نے ان دونوں حضرات سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غنیمت کا مال پاتے، پھر شام کے انباط ( ایک کاشتکار قوم ) ہمارے یہاں آتے تو ہم ان سے گیہوں، جو اور منقی کی بیع سلم ایک مدت مقرر کرکے کر لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے پوچھا کہ ان کے پاس اس وقت یہ چیزیں موجود بھی ہوتی تھیں یا نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم اس کے متعلق ان سے کچھ پوچھتے ہی نہیں تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت