1240 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَرَوَاهُ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ عَنْ عُقَيْلٍ
ہم سے محمدنے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، انہوںنے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا، مریض کا مزاج معلوم کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک پر ( اس کے الحمد للہ کے جواب میں ) یرحمک اللہ کہنا۔ اس روایت کی متابعت عبد الرزاق نے کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے معمر نے خبر دی تھی۔ اور اس کی روایت سلامہ نے بھی عقیل سے کی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے جنازہ میں شرکت کرنا بھی حقوق مسلمین میں داخل ہے۔ حافظ نے کہا کہ عبدا لرزاق کی روایت کو امام مسلم نے نکالا ہے اور سلامہ کی روایت کو ذہلی نے زہریات میں۔