فهرس الكتاب

الصفحة 1432 من 7563

کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان

باب: لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا

1432 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ قَالَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا' کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا اور ان سے ان کے باپ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صحابہ کرام سے فرماتے کہ تم سفارش کرو کہ اس کا ثواب پاؤ گے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان سے جو فیصلہ چاہے گا وہ دے گا۔

معلوم ہوا کہ حاجت مندوں کی حاجت اور غرض پوری کردینا یا ان کے لیے سعی اور سفارش کردینا بڑا ثواب ہے۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سفارش کرنے کی رغبت دلاتے اور فرماتے کہ اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمہاری سفارش ضرور قبول ہوجائے۔ ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے۔ مگر تم کو سفارش کا ثواب ضرور مل جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت