فهرس الكتاب

الصفحة 1488 من 7563

کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان

باب: جو اپنا میوہ یا کھجور کا درخت

1488 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ قَالَ حَتَّى تَحْمَارَّ

ہم سے قتیبہ نے امام مالک سے بیان کیا ' ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک پھل پر سرخی نہ آجائے ' انہیں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہوجائیں۔

یعنی یہ یقین نہ ہوجائے کہ اب میوہ ضرور اترے گا اور کسی آفت کا ڈر نہ رہے۔ پختہ ہونے کا مطلب یہ کہ اس کے رنگ سے اس کی پختگی ظاہر ہوجائے۔ اس سے پہلے بیچنا اس لیے منع ہوا کہ کبھی کوئی آفت آتی ہے تو سارا میوہ خراب ہوجاتا ہے یا گر جاتا ہے۔ اب گویا مشتری کا مال مفت کھالینا ٹھہرا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت