1696 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنایا، اشعار کیا، ان کو مکہ کی طرف روانہ کیا پھر بھی آپ کے لیے جو چیزیں حلال تھیں وہ (احرام سے پہلے صرف ہدی سے ) حرام نہیں ہوئیں۔
یہ واقعہ ہجرت کے نویں سال کا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاجیوں کا سردار بنا کر مکہ روانہ کیا تھا، ان کے ساتھ قربانی کے اونٹ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجے تھے۔ نووی نے کہا کہ اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص خود مکہ کو نہ جاسکے تو قربانی کا جانور وہاں بھیج دینا مستحب ہے اور جمہور علماءکا یہی قول ہے کہ صرف قربانی روانہ کرنے سے آدمی محر م نہیں ہوتا جب تک خود احرام کی نیت نہ کرے۔ ( وحیدی )