فهرس الكتاب

الصفحة 1704 من 7563

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

باب : بکریوں کو ہار پہنانے کا بیان

1704 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَتَلْتُ لِهَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي الْقَلَائِدَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے لیے خود قلادے بٹے ہیں۔ ان کی مراد احرام سے پہلے کے قلادوں سے تھی۔

تقلید کہتے ہیں قربانی کے جانوروں کے گلوں میں جوتیوں وغیرہ کا ہار بنا کر ڈالنا، یہ عرب کے ملک میں نشان تھا ہدی کا۔ ایسے جانور کوعرب لوگ نہ کوٹتے تھے نہ اس سے متعرض ہوتے، اور اشعار کے معنی خود کتاب میں مذکور ہیں یعنی اونٹ کا کوہان داہنی طرف سے ذرا سا چیر دینا اور خون بہا دینا یہ بھی سنت ہے اور جس نے اس سے منع کیا اس نے غلطی کی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت