فهرس الكتاب

الصفحة 1745 من 7563

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

باب : منی کی راتوں میں جو لوگ مکہ میں پانی پلاتے ہیں یا اور کچھ کام کرتے ہیں وہ مکہ میں رہ سکتے ہیں

1745 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو ضَمْرَةَ

اور ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا او ران سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتوں میں (حاجیوں ) کو پانی پلانے کے لیے مکہ میں رہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبداللہ کے ساتھ ابواسامہ عقبہ بن خالد اور ابوضمرہ نے کی ہے۔

معلوم ہوا کہ جس کو کوئی عذر نہ ہو اس کا منیٰ کی راتوں میں منی میں رہنا واجب ہے، شافعیہ اور حنابلہ اور اہل حدیث کا یہی قول ہے اور بعض کے نزدیک یہ واجب نہیں سنت ہے۔ ( وحیدی ) و فی الحدیث دلیل علی وجوب المبیت بمنی و انہ من مناسک الحج لان التعبیر بالرخصۃ یقتضی ان مقابلہاواجب وان الاذن وقع للعلۃ المذکورۃ و اذا لم توجد او ما فی معناہا لم یحصل الاذن و بالوجوب قال الجمہور ( فتح ) یعنی منی میں رات گزارنا واجب اور مناسک ِحج سے ہے، جمہور کا یہی قول ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو علت مذکورہ کی وجہ سے مکہ میں رات گزارنے کی اجازت ہی دلیل ہے کہ جب ایسی کوئی علت نہ ہو تو منیٰ میں رات گزارنا واجب ہے اور جمہور کا یہی قول ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت