1812 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ قَالَ وَحَدَّثَ نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ وَسَالِمًا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوبدر شجاع بن ولید نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر بن محمد عمری نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ اور سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی، (کہ وہ اس سال مکہ نہ جائیں ) تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر گئے تھے اور کفارقریش نے ہمیں بیت اللہ سے روک دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کو نحر کیا اور سر منڈایا۔
اس حدیث سے جمہور علماءکے قول کی تائید ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ احصار کی صورت میں جہاں احرام کھولے وہیں قربانی کرلے خواہ حل میں ہو یا حرم میں، اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ قربانی حرم میں بھیج دی جائے اور جب وہاں ذبح ہولے تب احرام کھولے فقال الجمہور یذبح المحصر الہدی حیث یحل سواءکان فی الحل او فی الحرم الخ ( فتح ) یعنی جسے حج سے روک دیا جائے وہ جہاں احرام کھولے حل میں ہو یا حرم میں اسی جگہ قربانی کر ڈالے۔