فهرس الكتاب

الصفحة 1836 من 7563

کتاب: شکار کے بدلے کا بیان

باب : محرم کا پچھنا لگوانا کیسا ہے؟

1836 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ فِي وَسَطِ رَأْسِهِ

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن ابی علقمہ نے، ان سے عبدالرحمن اعرج نے اور ان سے ابن عیینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم تھے اپنے سرکے بیچ میں مقام لحی جمل میں میں پچھنا لگوایا تھا۔

یہ مقام مکہ اور مدینہ کے بیچ میں ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بوقت ضرورت محرم پچھنا لگوا سکتا ہے مروجہ اعمال جراحی کو بھی بوقت ضرورت شدید اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت