فهرس الكتاب

الصفحة 188 من 7563

کتاب: وضو کے بیان میں

باب: وضو کے بچے ہوئے پانی کا بیان

188 وَقَالَ أَبُو مُوسَى: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: «اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا»

اور ایک دوسری حدیث میں ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا۔ جس میں پانی تھا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر فرمایا، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا جھوٹا پانی ناپاک نہیں۔ جیسے کہ آپ کی کلی کا پانی کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں پی لینے کا حکم فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مستعمل پانی پاک ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت