فهرس الكتاب

الصفحة 1890 من 7563

کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

باب

1890 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ زُرَيْعٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ سَمِعْتُ عُمَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا کرتے تھ اے اللہ ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں مقدر کردے۔ ابن زریع نے روح بن قاسم سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنی والدہ سے، انہوں نے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا تھا، ہشام نے بیان کیا، ان سے زید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا پھر یہی حدیث روایت کی۔

اللہ پاک نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہر دو دعاؤں کو قبول فرمایا۔ 26 ذی الحجہ23ھ بدھ کا دن تھا کہ فجر میں آپ امامت کر رہے تھے ظالم ابو لولو مجوسی نے آپ کو زہر آلود خنجر مارا، زخم کاری تھا، چند دن بعد آپ کا انتقال ہو گیا اور یکم محرم24ھ بروز ہفتہ تدفین عمل میں آئی، اللہ پاک نے آپ کی دوسری دعا بھی اس شان کے ساتھ قبول فرمائی کہ عین حجرہ نبوی پہلوئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں دفن کئے گئے۔ ( وذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاءو اللہ ذو الفضل العظیم )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت