فهرس الكتاب

الصفحة 2005 من 7563

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

باب : اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے؟

2005 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَعُدُّهُ الْيَهُودُ عِيدًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُومُوهُ أَنْتُمْ

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمیس نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عاشوراءکے دن کو یہودی عید کا دن سمجھتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی اس دن روزہ رکھا کرو۔

مسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا روایت ہے کہ صوموا یوم عاشوراءو خالفوا الیہود صوموا یوما قبلہ او یوما بعدہ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراءکے دن روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کے لیے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ اور ملا لو۔ قال القرطبی عاشوراءمعدول عن عشرۃ للمبالغۃ و التعظیم و ہو فی الاصل صفۃ اللیلۃ العاشرۃ لانہ ماخوذ من العشر الذی ہو اسم العقد و الیوم مضاف الیہا فاذا قیل یوم عاشوراءفکانہ قیل یوم لیلۃ العاشرۃ لانہم کانوا لما عدلوا بہ عن الصفۃ غلبت علیہ الاسمیۃ فاستغنوا عن الموصوف فحذفوا اللیلۃ فصار ہذا اللفظ علما علی الیوم العاشر ( فتح ) یعنی قرطبی نے کہا کہ لفظ عاشورا مبالغہ اور تعظیم کے لیے ہے جو لفظ عاشرہ سے معدول ہے جب بھی لفظ عاشوراءبولا جائے اس سے محرم کی دسویں تاریخ کی رات مراد ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت