208 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَلْقَى السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہمیں لیث نے عقیل سے خبر دی، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، انھیں جعفر بن عمرو بن امیہ نے اپنے باپ عمرو سے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بکری کے شانہ سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔
کسی بھی جائز اور مباح چیز کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، جن روایات میں ایسے وضو کرنے کا ذکر آیا ہے وہاں لغوی وضو یعنی صرف ہاتھ منہ دھونا۔ کلی کرنا مراد ہے۔