فهرس الكتاب

الصفحة 2103 من 7563

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

باب : پچھنا لگانے والے کا بیان

2103 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الَّذِي حَجَمَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے جو عبداللہ کے بیٹے ہیں بیان کیا، ان سے خالد حذاءنے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور جس نے پچھنا لگایا اسے آپ نے اس کی اجرت بھی دی، اگر اس کی اجرت حرام ہوتی تو آپ اس کو ہرگز نہ دیتے۔

ثابت ہوا کہ بوقت ضرورت پچھنا لگوانا جائز ہے اور اس کی اجرت لینے والے اور دینے والے ہر دو کے لیے منع نہیں ہے۔ اصلاح خون کے لیے پچھنے لگوانے کا علاج بہت پرانا نسخہ ہے۔ عرب میں بھی یہی مروج تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت