فهرس الكتاب

الصفحة 2145 من 7563

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

باب : بیع ملامسۃ کا بیان اور انس رضی ا للہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے

2145 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ثُمَّ يَرْفَعَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ

ہم سے قتبیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ نے بیان کیا کہ دو طرح کے لباس پہننے منع ہیں۔ کہ کوئی آدمی ایک ہی کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے، پھر اسے مونڈے پر اٹھا کر ڈال لے ( اور شرم گاہ کھلی رہے ) اور دو طرح کی بیع سے منع کیا ایک بیع ملامسۃ سے اور دوسری بیع منابذہ سے۔

اس روایت میں دوسرے لباس کا ذکر نہیں کیا۔ وہ اشتمال صما ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے یعنی ایک ہی کپڑا سارے بدن پر اس طرح لپیٹنا کہ ہاتھ وغیرہ کچھ باہر نہ نکل سکیں۔ نسائی کی روایت میں ملامسۃ کی تفسیر یوں مذکور ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے کہ میں اپنا کپڑا تیرے کپڑے کے عوض بیچتا ہوں اور کوئی دوسرے کا کپڑا نہ دیکھے صرف چھوئے، اور بیع منابذہ یہ ہے کہ مشتری اور بائع میں یہ ٹھہرے کہ جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینک دوں گا اور جو تیرے پاس ہے وہ تومیری طرف پھینک دے۔ بس اسی شرط پر بیع ہو جائے اور کسی کو معلوم نہ ہو کہ دوسرے کے پاس کتنا اور کیا مال ہے۔ ( وحیدی )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت