فهرس الكتاب

الصفحة 2173 من 7563

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

باب : منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا

2173 قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا

عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھے سے زید بن ثابت رضی ا للہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرایا کی اجازت دے دی تھی جو اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔

عرایا بھی مزابنہ ہی ایک قسم ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خاص طور سے اجازت دی بوجہ ضرورت کے۔ وہ ضرورت یہ تھی کہ لوگ خیرات کے طور پر ایک دو درخت کا میوہ کسی محتاج کو دیا کرتے تھے پھر اس کا باغ میں گھڑی گھڑی آنا مالک کوناگوار ہوتا۔ تو اس میوہ کا اندازہ کرکے اتنی خشک میوے کے بدل وہ درخت اس فقیر سے خرید لیتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت