فهرس الكتاب

الصفحة 2294 من 7563

کتاب: کفالت کے مسائل کا بیان

باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورہ نساء میں ) یہ ارشاد کہ " جن لوگوں سے تم نے قسم کھا کر عہد کیا ہے، ان کا حصہ ان کو ادا کرو "

2294 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي

ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا، اسلام میں جاہلیت والے ( غلط قسم کے ) عہد و پیمان نہیں ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود انصار اور قریش کے درمیان میرے گھر میں عہد و پیمان کرایا تھا۔

معلوم ہوا کہ عہد و پیمان اگر حق اور انصاف اور عدل کی بنا پر ہو تو وہ مذموم نہیں ہے بلکہ ضروری ہے مگر اس عہد وپمان میں صرف باہمی مدد و خیر خواہی مد نظر ہوگی۔ اور ترکہ کا ایسے بھائی چارہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا کہ وہ وارثوں کا حق ہے۔ یہ امردیگر ہے کہ ایسے مواقع پر حسب قائدہ شرعی مرنے والے کو وصیت کا حق حاصل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت