فهرس الكتاب

الصفحة 230 من 7563

کتاب: وضو کے بیان میں

باب: منی کے دھونے کے بارے میں

230 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ المَنِيِّ، يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَتْ: «كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ، وَأَثَرُ الغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ» بُقَعُ المَاءِ

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے، کہا ہم سے عمرو نے سلیمان سے روایت کیا، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ( دوسری سند یہ ہے ) ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے عمرو بن میمون نے سلیمان بن یسار کے واسطے سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارہ میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے۔ تو انھوں نے فرمایا کہ میں منی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو ڈالتی تھی پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان ( یعنی ) پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں باقی ہوتے۔

باب میں عورت کی شرمگاہ سے تری وغیرہ لگ جانے اور اس کے دھونے کا بھی ذکر تھا۔ مگر احادیث واردہ میں صراحتًا عورت کی تری کا ذکر نہیں ہے۔ ہاں حدیث نمبر 227 میں کپڑے پر مطلقًا منی لگ جانے کا ذکر ہے۔ خواہ وہ مرد کی ہو یا عورت کی۔ اسی سے باب کی مطابقت ہوتی ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ منی کو پہلے کھرچنا چاہئیے پھر پانی سے صاف کرڈالنا چاہئیے پھر بھی اگرکپڑے پر کچھ نشان دھبے باقی رہ جائیں توان میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ کیونکہ کپڑا پاک صاف ہوچکا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت