فهرس الكتاب

الصفحة 2579 من 7563

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

باب : ہدیہ کا قبول کرنا

2579 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الحَسَنِ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: «عِنْدَكُمْ شَيْءٌ» ، قَالَتْ: لاَ، إِلَّا شَيْءٌ بَعَثَتْ بِهِ أُمُّ عَطِيَّةَ، مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتَ إِلَيْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: «إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا»

ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے حفصہ بنت سیرین سے کہ ام عط یہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا، کیا کوئی چیز ( کھانے کی ) تمہارے پاس ہے؟ انہوں نے کہا کہ ام عط یہ رضی اللہ عنہ کے یہاں جو آپ نے صدقہ کی بکری بھیجی تھی، اس کا گوشت انہوں نے بھیجا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی۔

یعنی اس کا کھانا اب ہمارے لیے جائز ہے۔ کیوں کہ مسئلہ یہ ہے کہ صدقہ زکوٰۃ وغیرہ جب کسی مستحق شخص کو دے دیا جائے تو وہ اب جس طرح چاہے اسے استعمال کرسکتا ہے۔ وہ چاہے کسی امیر غریب کو کھلا بھی سکتا ہے۔ بطور تحفہ بھی دے سکتا ہے۔ اب وہ اس کا ذاتی مال ہوگیا، وہ اس کا مالک بن گیا۔ اس کو خرچ کرنے میں اتنی ہی آزادی ہے جتنی کہ مالک کو ہوتی ہے۔ غریب آدمی کی دلجوئی کے لیے اسکا ہدیہ قبول کرلینا اور بھی موجب ثواب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت