فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
2589 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «العَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ»
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا ہبہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے پھر چاٹ جاتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے اور ہبہ میں رجوع ناجائز رکھا ہے۔ صرف باپ کو اس ہبہ میں رجوع جائز رکھا ہے جووہ اپنی اولاد کو کرے۔ بدلیل دوسری حدیث کے جو اوپر گزر چکی اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اگر اجنبی شخص کو کچھ ہبہ کرے تو اس میں رجوع جائز رکھا ہے جب تک وہ شے موہوب اپنے حال پر باقی ہو اور اس کا عوض نہ ملا ہو۔