2606 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: «دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الحَقِّ مَقَالًا» ، وَقَالَ: «اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا، فَأَعْطُوهَا إِيَّاهُ» فَقَالُوا: إِنَّا لاَ نَجِدُ سِنًّا إِلَّا سِنًّا هِيَ أَفْضَلُ مِنْ سِنِّهِ، قَالَ: «فَاشْتَرُوهَا، فَأَعْطُوهَا [ص:162] إِيَّاهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً»
ہم سے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا ( اس نے سختی کے ساتھ تقاضا کیا ) تو صحابہ اس کی طرف بڑھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، حق والے کو کچھ نہ کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے ایک اونٹ اسی کے اونٹ کی عمر کا خرید کر اسے دے دو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی کو خرید کر دے دو کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو قرض کے ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔
بعضوں نے کہا اس حدیث کی مناسبت ترجمہ باب سے مشکل ہے۔ کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو وکیل کیا تھا۔ انہوں نے اونٹ خریدا، تو ان کا قبضہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قبضہ تھا اس لیے قبضہ سے پہلے یہ ہبہ نہ ہوا تواس کا جواب یہ ہے کہ ابورافع صرف خریدنے کے لیے وکیل ہوئے تھے نہ ہبہ کے لیے، تو ان کا قبضہ ہبہ کے احکام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قبضہ نہ تھا۔ پس امام بخاری رحمہ اللہ کا مطلب حدیث سے نکل آیا اور غیر مقبوض کا ہبہ ثابت ہوا۔ ( وحیدی )