فهرس الكتاب

الصفحة 2614 من 7563

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

باب : ایسے کپڑے کا تحفہ جس کا پہننا مکروہ ہو

2614 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ المَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَهْدَى إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ، فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي»

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے عبدالمالک بن میسرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے پہن لیا۔ لیکن جب غصے کے آثار روئے مبارک پر دیکھے تو اسے اپنی عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کردیا۔

ابوصالح کی روایت میں یوں ہے فاطموں کو بانٹ دیا، یعنی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہ اور فاطمہ بنت اسد کو جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں اور فاطمہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب کو اور فاطمہ بنت شیبہ یا بنت عتبہ بن ربیعہ کو جو عقیل بن ابی طالب کی بیوی تھیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت