فهرس الكتاب

الصفحة 2649 من 7563

کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

باب : زنا کی تہمت لگانے والے اور چور اور حرام کار کی گواہی کا بیان

2649 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى، وَلَمْ يُحْصَنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبِ عَامٍ»

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا عقیل سے ، وہ ابن شہاب سے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے جو شادی شدہ نہ ہوں اور زنا کریں ۔ یہ حکم دیا تھا کہ انہیں سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا جائے ۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کامقصد اس روایت کے لانے سے یہ ہے کہ جب حدیث میں غیر محصن کی سزا یہی مذکور ہوئی کہ سوکوڑے مارو اور ایک سال کے لیے جلاوطن کرو اور توبہ کا علےٰحدہ ذکر نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا ایک سال تک بے وطن رہنا یہی توبہ ہے۔ اس کے بعد اس کی شہادت قبول ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت