فهرس الكتاب

الصفحة 2652 من 7563

کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

باب : اگر ظلم کی بات پر لوگ گواہ بننا چاہیں تو گواہ نہ بنے

2652 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ» قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «وَكَانُوا يَضْرِبُونَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ، وَالعَهْدِ»

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبردی منصور سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہیں عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں ، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے ، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے ۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمارے بڑے بزرگ شہادت اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارتے تھے ۔

مطلب یہ کہ اشھد باللہ یا علی عھد اللہ ایسی باتوں کے منہ سے نکالنے پر ہمارے بزرگ ہم کو مارا کرتے تھے تا کہ قسم کھانے کی عادت نہ پڑ جائے ۔ موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت بہتر نہیں ہے قسم میں احتیاط لازمی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت