2656 حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِلاَلًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ - أَوْ قَالَ حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ - ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ» وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَى، لاَ يُؤَذِّنُ حَتَّى يَقُولَ لَهُ النَّاسُ: أَصْبَحْتَ
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبردی سالم بن عبداللہ سے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بلال رضی اللہ عنہ رات میں اذان دیتے ہیں ۔ اس لیے تم لوگ سحری کھاپی سکتے ہو یہاں تک کہ ( فجر کے لیے ) دوسری اذان پکاری جائے ۔ یا ( یہ فرمایا ) یہاں تک کہ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سن لو ۔ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب تک ان سے کہا نہ جاتا صبح ہوگئی ہے ، وہ اذان نہیں دیتے تھے ۔
اس حدیث کی مطابقت باب سے ظاہر ہے کہ لوگ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان پر اعتماد کرتے، کھانا پینا چھوڑدیتے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ اس سے بھی نابینا کی گواہی کا اثبات مقصود ہے اور ان لوگوں کی تردید جو نابینا کی گواہی قبول نہ کرنے کا فتویٰ دیتے ہیں۔