فهرس الكتاب

الصفحة 2744 من 7563

کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان

باب : تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان

2744 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرِضْتُ، فَعَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ لاَ يَرُدَّنِي عَلَى عَقِبِي، قَالَ: «لَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ وَيَنْفَعُ بِكَ نَاسًا» ، قُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ، وَإِنَّمَا لِي ابْنَةٌ، قُلْتُ: أُوصِي بِالنِّصْفِ؟ قَالَ: «النِّصْفُ كَثِيرٌ» ، قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ» ، قَالَ: فَأَوْصَى النَّاسُ بِالثُّلُثِ، وَجَازَ ذَلِكَ لَهُمْ

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا' کہا ہم سے زکریابن عدی نے بیان کیا' ان سے مروان بن معاویہ نے' ان سے ہاشم ابن ہاشم نے' ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے باپ سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لئے دعاکیجئے کہ اللہ مجھے الٹے پاؤں واپس نہ کردے ( یعنی مکہ میں میری موت نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صحت دے اورتم سے بہت سے لوگ نفع اٹھائیں۔ میں نے عرض کیا میرا ارادہ وصیت کرنے کا ہے۔ اےک لڑکی کے سوا اور میرے کوئی ( اولاد ) نہیں ۔ میں نے پوچھاکیا آدھے مال کی وصیت کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدھا تو بہت ہے۔ پھر میں نے پوچھا تو تہائی کی کردوں؟ فرمایا کہ تہائی کی کرسکتے ہو اگر چہ یہ بھی بہت ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) بڑی ( رقم ) ہے۔ چنانچہ لوگ بھی تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ ان کیلئے جائز ہوگئی۔

اس حدیث سے بھی تہائی تک کی وصیت کرنا جائز ثابت ہوا' ساتھ یہ بھی کہ شارع کا منشا وارثوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مال چھوڑنا ہے تاکہ وہ پیچھے محتاج نہ ہوں' وصیت کرتے وقت وصیت کرنے والوں کو یہ امرملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت