فهرس الكتاب

الصفحة 2844 من 7563

کتاب: جہاد کا بیان

باب: جو شخص غازی کا سامان تیار کردے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبر گیری کرے' اس کی فضیلت

2844 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي»

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریمﷺ مدینہ میں اپنی بیویوں کے سوا اور کسی کے گھر نہیں جایا کرتے تھے مگر ام سلیم کے پاس جاتے ۔ آنحضرتﷺ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اس پر رحم آتا ہے ، اس کا بھائی ( حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ ) میرے کام میں شہید کر دیا گیا۔

وہ ستر قاری مبلغین صحابہ قبائل رعل و ذکوان وغیرہ نے جن کو دھوکا سے شہید کردیا تھا' ان میں اولین شہید یہی حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ تھے۔ علماء نے ام سلیم کو آپ کی رضاعی خالہ بھی بتلایا ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں علی انھا کانت محرما لہ صلی اللہ علیہ وسلم واختلفوا فی کیفیۃ ذلک فقال ابن عبدالبر وغیرہ کانت احدی خالاتہ صلعم من الرضاعۃ وقال اخرون بل کانت خالۃ لابیہ او لجدہ لان عبدالمطلب کانت امہ من بنی النجار (نووی) یعنی ام سلیم آپ کے لیے محرم تھی بعض لوگوں نے ان کو آپ کی خالہ بتلایا ہے اور رضاعی بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ کے والد ماجد یا آپ کے دادا کی خالہ تھیں' اس لئے کہ عبدالمطلب کی والدہ ماجدہ بنو نجار سے تھیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت