2876 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، بِهَذَا، وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَهُ نِسَاؤُهُ عَنِ الجِهَادِ، فَقَالَ: «نِعْمَ الجِهَادُ الحَجُّ»
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث اور ابو سفیان نے حبیب بن ابی عمرہ سے یہی روایت کی جو عائشہ بنت طلحہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہے ( اس میں ہے کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے جہاد کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج بہت ہی عمدہ جہاد ہے ۔
سفر حج بس عورتوں کے لئے جہاد سے کم نہیں ہے مگر خود جہاد میں بھی عورتوں کی شرکت ثابت ہے بلکہ بحری جہاد کے لئے ایک اسلامی خاتون کے لئے آنحضرتﷺ کی پیش گوئی موجود ہے جس کے پیش نظر مجتہد مطلق حضرت امام بخاریؒ نے نیچے عورتوں کا بحری جہاد میں شریک ہونے کا باب منعقد فرمایا۔