فهرس الكتاب

الصفحة 2895 من 7563

کتاب: جہاد کا بیان

باب : جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا

2895 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا فِي بَيْتِهَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ البَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «أَنْتِ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَيَقُولُ: «أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ» ، فَتَزَوَّجَ بِهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الغَزْوِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا، فَوَقَعَتْ، فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر تشریف لاکر قیلولہ فرمایا تھا ۔ جب آپ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے ۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو ( خواب میں دیکھ کر ) خوشی ہوئی جو سمندر میں ( غزوہ کے لیے ) اس طرح جارہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کردے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو ۔ اس کے بعد پھر آپ سوگئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے ۔ آپ نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی ۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا ۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کردے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہوگی وہ حضرت عباہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو ( اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ ) غزوہ میں لے گئے ، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں ( سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد ) گرپڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی ، رضی اللہ عنہا ۔

یہ حدیث اور اس پر نوٹ پیچھے لکھا جا چکا ہے یہاں مرحوم اقبال کا یہ شعر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے۔

دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت