2916 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، بِثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ» وَقَالَ يَعْلَى، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ: دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَقَالَ مُعَلًّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، وَقَالَ: رَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبردی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابراہیم نے ، انہیں اسود نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی ۔ اور یعلیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ لوہے کی زرہ ( تھی ) اور معلیٰ نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی ایک زرہ رہن رکھی تھی ۔
اس حدیث سے زرہ رکھنے کا ثبوت ہوا۔ زرہ لوہے کا کرتہ جس سے جنگ میں سارا جسم چھپ جاتا ہے اور اس پر کسی نیزے یا برچھے کا اثر نہ ہوتا تھا۔ قدیم زمانے میں تقریبًا ساری ہی دنیا میں میدان جنگ میں زرہ پہننے کا رواج تھا۔