2943 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ [ص:48] أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ بَعْدَ مَا يُصْبِحُ، فَنَزَلْنَا خَيْبَرَ لَيْلًا» ،
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ، ان سے حمید نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو اس وقت تک کوئی اقدام نہ فرماتے جب تک صبح نہ ہوجاتی ، جب صبح ہوجاتی اور اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو صبح ہونے کے بعد حملہ کرتے ۔ چنانچہ خیبر میں بھی ہم رات میں پہنچے تھے ۔
اس حدیث میں بھی اشارہ ہے کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے ہر وہ موقع تلاش کرلینا چاہئے جس سے جنگ کا خطرہ ٹل سکے کیونکہ اسلام کا مقصد جنگ ہرگز نہیں ہے۔