فهرس الكتاب

الصفحة 2950 من 7563

کتاب: جہاد کا بیان

باب : لڑائی کا مقام چھپانا( دوسرا مقام بیان کرنا )اور جمعرات کے دن سفر کرنا

2950 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ص:49] بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الخَمِيسِ»

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عبدالرحمن بن کعب بن مالک نے اور انہیں ان کے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے ۔

غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرتﷺ نے توریہ نہیں فرمایا۔ بلکہ صاف صاف لفظوں میں اس جنگ کا اعلان فرما دیا تھا کیونکہ ہر لحاظ سے یہ مقابلہ بہت ہی سخت تھا اور مسلمانوں کو اس کے لئے پورے پورے طور پر تیار ہونا تھا۔ مقصد باب یہ کہ امام حالات کے تحت مختار ہے کہ وہ حسب موقع توریہ سے کام لے یا نہ لے جیسا موقع محل دیکھے ویسا ہی کرلے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت