2963 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي، فَقُلْتُ: بَايِعْنَا عَلَى الهِجْرَةِ، فَقَالَ: «مَضَتِ الهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا» ، فَقُلْتُ: عَلاَمَ تُبَايِعُنَا؟ قَالَ: «عَلَى الإِسْلاَمِ وَالجِهَادِ»
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا ، انہوں نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے ، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ ( فتح مکہ کے بعد ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو ( مکہ کے فتح ہونے کے بعد ، وہاں سے ) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی ۔ میں نے عرض کیا ، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر ۔
عہد رسالت میں ہجرت کا جو نشانہ تھا وہ فتح مکہ پر ختم ہوگیا۔ کیونکہ سارا عرب دارالاسلام بن گیا' بعد کے زمانوں میں مکی زندگی کا نقشہ سامنے آنے پر ہجرت کا سلسلہ جاری ہے۔ نیز اسلام اور جہاد بھی باقی ہے۔ لہٰذا ان سب پر بیعت لی جاسکتی ہے۔ بیعت سے مراد حلف اور اقرار ہے کہ اس پر ضرور قائم رہا جائے گا۔ خلاف ہرگز نہ ہوگا۔ بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں جو بیان ہوں گی۔