فهرس الكتاب

الصفحة 3104 من 7563

کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

باب : رسو ل کریم ﷺ کی بیویوں کے گھروں کا ان کی طرف منسوب کرنا

3104 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَأَشَارَ نَحْوَ مَسْكَنِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: «هُنَا الفِتْنَةُ - ثَلاَثًا - مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ»

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ' کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ' ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اسی طرف سے (یعنی مشرق کی طرف سے) فتنے برپا ہوں گے ' تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا کہ یہیں سے شیطان کا سر نمودار ہوگا ۔

المراد بقرن الشیطان طرف راسہ ای یدنی راسہ الی الشمس فی وقت طلوعھا فیکون الساجدون للشمس من الکفار کالساجدین لہ وقیل قرنہ امتہ وشیعتہ وفی بعضھا قرن الشمس ( حاشیہ بخاری شریف ) یعنی قرن الشیطان سے اس کے سر کا کنارامراد ہے۔ وہ سورج کے نکلنے کے وقت اس کی طرف اپنا سر کردیتا ہے تاکہ سورج کو سجدہ کرنے والے کافر اس کو سجدہ کریں۔ گویا وہ اسی کو سجدہ کر رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ قرن سے مراد اس کے ماننے والے ہیں' جو شیطان کے پجاری ہیں۔ علامہ عینی فرماتے ہیں کہ مشرق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارض عراق کی طرف اشارہ فرمایا تھا' جو فی الواقع فتنوں کا مرکز رہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت