فهرس الكتاب

الصفحة 3117 من 7563

کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

باب : سورۃ انفال میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ جو کچھ تم غنیمت میں حاصل کرو ، بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے ہے یعنی رسو ل اللہ ﷺ اس کی تقسیم کریں گے

3117 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلاَلٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أُعْطِيكُمْ وَلاَ أَمْنَعُكُمْ، إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ»

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ' کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ' کہا ہم سے بلال نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' نہ میں تمہیں کوئی چیزدیتا ہوں ' نہ تم سے کسی چیز کو روکتا ہوں ۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں ۔ جہاں جہاں کا مجھے حکم ہوتا ہے بس وہیں رکھ دیتا ہوں ۔

اموال غنیمت پر اشارہ ہے کہ اس کی تقسیم امرالہیٰ کے مطابق میرا کام ہے' دینے والا اللہ پاک ہی ہے' اس لئے جس کو جو کچھ مل جائے اسے بخوبی قبول کرنا چاہئے اورجو ملے گا وہ عین اس کے حق کے مطابق ہی ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت