فهرس الكتاب

الصفحة 3151 من 7563

کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

باب : تالیف قلوب کے لیے آنحضرت ﷺ کا بعضے کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا

3151 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: «كُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي، وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ» وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو جو زمین عنایت فرمائی تھی ، میں اس میں سے گٹھلیاں (سوکھی کھجوریں) اپنے سر پر لایا کرتی تھی ۔ وہ جگہ میرے گھر سے دو میل فرسخ کی دو تہائی پر تھی ۔ ابوضمرہ نے ہشام سے بیان کیا اور انہوں نے اپنے باپ سے ( مرسلًا ) بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بنی نضیر کی اراضی میں سے ایک زمین مقطعہ کے طور پر دی تھی ۔

حافظ نے کہا میں نے اس تعلیق کو موصولًا نہیں پایا، اس کے بیان کرنے سے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی غرض یہ ہے کہ ابوضمرہ نے ابواسامہ کے خلاف اس حدیث کو مرسلًا روایت کیا ہے نہ کہ موصولًا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو کچھ جاگیر عنایت فرمائی، اسی سے باب کا مطلب نکلا کہ امام خمس وغیرہ میں سے حسب مصلحت تقسیم کرنے کا مختار ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت