فهرس الكتاب

الصفحة 3157 من 7563

کتاب: جزیہ وغیرہ کے بیان میں

باب: جزیہ کا اور کافروں سے ایک مدت تک لڑائی نہ کرنے کا بیان

3157 حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ

لیکن جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا ۔ ( تو وہ بھی لینے لگے تھے )

معلوم ہوا کہ پارسیوں کا بھی حکم اہل کتاب کاسا ہے۔ امام شافعی اور عبدالرزاق نے نکالا کہ پارسی اہل کتاب تھے، پھر ان کے سردار نے بدتمیزی کی، اپنی بہن سے صحبت کی اور دوسروں کو بھی یہ سمجھایا کہ اس میں کوئی قباحت نہیں۔ آدم علیہ السلام اپنی لڑکیوں کا نکاح اپنے لڑکوں سے کردیتے تھے۔ لوگوں نے اس کا کہنا مانا اور جنہوں نے انکار کیا، ان کو اس نے مارڈالا۔ آخر ان کی کتاب مٹ گئی۔ اور مؤطا میں مرفوع حدیث ہے کہ پارسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا سلوک کرو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت