3204 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّمْسُ وَالقَمَرُ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ [ص:109] ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا»
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل ابی خالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا ۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو ۔
ان جملہ احادیث میں کسی نہ کسی طرح سے چاند اور سورج کا ذکر آیا ہے اس لیے ان کو یہاں نقل کیاگیا۔ ان کے بارے میں جو کچھ زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوا اس سے آگے بڑھ کر بولنا مسلمان کے لیے روا نہیں ہے۔ آج کے حالات نے چاند اور سورج کے وجود کو مزید واضح کردیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ لا تسجدو للشمس ولا للقمر الاے ( حم السجدہ:37 ) یعنی چاند سورج کو سجدہ نہ کرو، یہ تو اللہ پاک کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں۔ سجدہ کرنے کے قابل صرف اللہ ہے جس نے ان سب کو وجود بخشا ہے۔
چاند میں جانے کے دعویداروں نے جو کچھ بتلایا ہے اس سے بھی قرآن پاک کی تصدیق ہوتی ہے کہ چاند بھی دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے وہ کوئی دیوی دیوتا یا مافوق المخلوق کوئی اور چیز نہیں ہے۔