فهرس الكتاب

الصفحة 3211 من 7563

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

باب : فرشتوں کا بیان۔

3211 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَالأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:112] : «إِذَا كَانَ يَوْمُ الجُمُعَةِ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ المَسْجِدِ المَلاَئِكَةُ، يَكْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الإِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ، وَجَاءُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ»

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ اور اغرنے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلے آنے والے اور پھر اس کے بعد آنے والوں کو نمبر وار لکھتے جاتے ہیں ۔ پھر جب امام ( خطبے کے لیے منبر پر ) بیٹھ جاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور ذکر سننے لگ جاتے ہیں ۔ ( یہ حدیث کتاب الجمعہ میں مذکور ہو چکی ہے یہاں فرشتوں کا وجود ثابت کرنا مقصود ہے )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت