فهرس الكتاب

الصفحة 3230 من 7563

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

باب : اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا( جہری نماز میں سورہ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند )آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر( زور سے )آمین کہتے ہیں

3230 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى المِنْبَرِ {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: 77] قَالَ: سُفْيَانُ: فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَنَادَوْا يَا مَالِ

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے ، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد ( یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ منبر پر سورہ احزاب کی اس آپت کی تلاوت فرما رہے تھے ونادوا یا مالک { اور وہ دوزخمی پکاریں گی اے مالک ! ( یہ داروغہ جہنم کا نام ہے ) اور سفیان نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود ص کی رات میں یوں ہے ونادوایامال}

پوری آیت یوں ہے ونادوا ےملک لےقض علینا ربک قال انکم مکثون ( الزخرف: 77 ) یعنی " دوزخمی داروغہ دوزخ مالک کو پکاریں گے کہ اپنے رب سے کہو کہ وہ ہم کو موت دے دے وہ جواب دے گا کہ تم مرنے والے نہیں ہو، بلکہ سب ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہو گے "۔ اس سے بھی فرشتوں کا وجود اور ان کا مختلف خدمات پر مامور ہونا ثابت ہوا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں لفظ ونادوایامال یا مالک کا مخفف ہے۔ مطلب ہر دو کا ایک ہی ہے کہ دوزخمی دوزخ کے داروغہ مالک کو پکاریں گے۔ اس سے بھی فرشتوں کا وجود ثابت ہوا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت