فهرس الكتاب

الصفحة 3287 من 7563

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

باب : ابلیس اور اس کی فوج کا بیان۔

3287 حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ المُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الشَّأْمَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَا هُنَا؟ قَالُوا أَبُو الدَّرْدَاءِ، قَالَ: «أَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، وَقَالَ: الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي عَمَّارًا

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے ، ان سے ابراہیم نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں شام پہنچا تو لوگوں نے کہا ، ابودرداءآئے انہوں نے کہا ، کیا تم لوگوں میں وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر ( یعنی آپ کے زمانے سے ) شیطان سے بچا رکھا ہے ۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے یہی حدیث ، اس میں یہ ہے ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کیا تھا ، آپ کی مراد حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے تھی ۔

مطلب یہ کہ عمار شیطانی اغوا میں نہیں آئیں گے۔ ایسا ہی ہوا کہ عمار خلیفہ برحق یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اور باغیوں میں شریک نہ ہوئے، اس حدیث سے حضرت عمار کی بڑی فضیلت نکلی، وہ خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت