فهرس الكتاب

الصفحة 3295 من 7563

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

باب : ابلیس اور اس کی فوج کا بیان۔

3295 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أُرَاهُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلاَثًا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ»

ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے یزید نے ، ان سے محمد بن ابراہیم نے ، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اوران سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب کوئی شخص سوکر اٹھے اور پھر وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے ، کیوں کہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے نتھنے پر بیٹھا رہتا ہے ۔ ( جس سے آدمی پر سستی غالب آجاتی ہے ۔ پس ناک جھاڑنے سے وہ سستی دور ہو جائے گی ) ۔

ان جملہ احادیث سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے شیاطین کا وجود ثابت فرمایا ہے اور وہ جن جن صورتوں سے بنی آدم کو گمراہ کرتے ہیں، ان میں سے اکثر صورتیں ان احادیث میں مذکورہوگئی ہیں۔ شیطان کے وجود کا انکار کرنے والے قرآن و حدیث کی روشنی میں مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔ باب اور احادیث میں مطابقت ظاہر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت